Wp/scl

< WpWp > scl
شینا زبان  کا معنی  کیا  ہے اور کیا آپ کو معلوم  ہے کہ  شینا کا نام شینا کس نے رکھا تھا؟  
شینا پشتو زبان کا لفظ شین  سے ماخوذ ہے جس

کا معنی( سر سبز ) ہے ۔تاریخ دانوں کے مطابق افغانی حکمران احمد شاہ دورانی نے 1751 میں شمالی علاقہ جات کو اپنی سلطنت کا حصہ بنانے کے بعد شمالی علاقہ جات کی تمام زمینوں کو دو حصوں میں تقسيم کیا تھا ۔یعنی شین نوحہ (سرسبز زمین ) اور وچ نوحہ (خشک زمیں ) میں تقسیم کر کے ٹیکس کا نیا سسٹم متعارف کروایا تھا یعنی جو لوگ سرسبز علاقے میں رہتے ہیں ان سے ٹیکس زیادہ لیا کرتے تھے اور جو لوگ خشک علاقے میں رہتے تھے ان کی ٹیکس کم تھی ان ادوار میں شمالی علاقہجات کے نوے پرسن لوگ سرسبز علاقوں میں رہاکرتے تھے اسی نسبت سے شین نوحہ میں (سرسبز علاقے) میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو شینا بولا جانے لگا۔ احمد شاہ دورانی نے افغانستان اور صوبہ سرحد میں شین دند ، شین کاری اور شینا نام کے کئی مقامات کے نام بھی رکھے تھے جن کے نام آج تک تبدیل نہیں ہوسکے ہیں اور یوں شین نوحہ کی نسبت سے افغانوں نے شمالی علاقوں کے سرسبز مقامات میں بولی جانے والی کئی زبانوں کو شینا کا نام دیا یوں بارہ زبانوں اور لہجوں کو ایک نام ملا یعنی شینا بعض ماہرین کے مطابق شینا تقریبا 16 زبانوں اور لہجوں کا مجموعہ ہے۔ اور زیاد تر تاریخ دان شینا کو 12 زبانوں کا ہی مجموعہ کرار دیتے ہیں اسی وجہ سے ہر علاقے میں ایک ہی چیز کے الگ الگ نام ہیں شینا کا معنی سرسبزے علاقہ جات میں بولی جانے والی زبانیں ہیں جس میں چترال سے لیکر لداخ اور کاشغر تک تمام زبانوں کو شینا کہا جاتا تھا۔