Wn/ur/پاکستانی کھلاڑی کی کہانی جس کی تصویر ڈاک ٹکٹ پر چھپی

< Wn‎ | urWn > ur > پاکستانی کھلاڑی کی کہانی جس کی تصویر ڈاک ٹکٹ پر چھپی

اسد ملک کا شمار پاکستان ہاکی کے چند بہترین لیفٹ ان میں ہوتا ہے جو مخالف ٹیموں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھے جاتے تھے۔ اپنے ونگرز کے ساتھ انتماشائیوں کو مسحور مر دیتے تھے۔ ان کے پاسز ساتھی کھلاڑیوں کو گول کرنے کے خوبصورت مواقع فراہم کرتے تھے۔

اسد ملک نے نے اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز دسمبر 1961 میں ملائیشیا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا تھا۔ 1961 سے 1972 تک انھوں نے 121 بین الاقوامی میچز میں 41 گول کیے۔ جب پاکستان نے 1971 میں اولین ہاکی ورلڈ کپ جیتا تو اس وقت وہ ٹیم کے نائب کپتان تھے۔ سد ملک تین ایشین گیمز کھیلے جن میں پاکستان نے 1962 اور 1970 میں گولڈ میڈل جیتا جبکہ 1966 میں اس نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان تین مقابلوں میں اسد ملک کے آٹھ گول شامل تھے۔ وہ 1968 میں میکسیکو اولمپکس جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے بھی نائب کپتان تھے۔ ان مقابلوں میں ان کی کارکردگی قابل ذکر رہی تھی۔ انھوں نے پانچ گول کیے جو رشید جونیئر کے سات اور تنویر ڈار کے چھ گول کے بعد تیسرے نمبر پر تھے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف فائنل میچ میں پاکستان انہی کے ریورس فلک گول کے ذریعے اولمپک چیمپیئن بنا تھا۔

پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 1968 کے میکسیکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کے موقع پر ایک روپے مالیت کا خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جس پر اسد ملک کی کھیلتے ہوئے تصویر تھی

سنہ 1972 کے میونخ اولمپکس میں وہ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان تھے۔ مغربی جرمنی کے خلاف فائنل میں پاکستانی ٹیم کو امپائرنگ سے بڑی شکایت رہی اور فائنل ہارنے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے میڈلز لیتے وقت نامناسب انداز اختیار کیا جس پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے اسد ملک سمیت دیگر 12 کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔ بی بی سی کے مطابق وہ موٹرسائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ کسی گاڑی نے ان کی موٹرسائیکل کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں اسد ملک جان بحق ہو گئے اور کی بیٹی بھی زخمی ہوئیں۔ ان کی عمر78 سال تھی۔

حوالہ جاتEdit

https://www.bbc.com/urdu/sport-53561932