Wn/ur/محمد علی کلے باکسنگ کا سب سے بڑا نام

< Wn‎ | urWn > ur > محمد علی کلے باکسنگ کا سب سے بڑا نام
محمد علی

Muhammad Ali

شماریات
عرفیت The Greatest

The People's Champion The Louisville Lip

وزن ہیوی ویٹ
قد 6 فٹ 3 انچ (191 سینٹی میٹر)
ریچ 78 انچ (198 سینٹی میٹر)
قومیت امریکی
پیدائش Cassius Marcellus Clay, Jr.

17 جنوری 1942 لوئیزویل، کینٹکی، ریاستہائے متحدہ

وفات جون 3، 2016 (عمر  74 سال)

سکاٹسڈیل، ایریزونا، ریاستہائے متحدہ

اسٹانز آرتھوڈوکس
باکسنگ ریکارڈ
کل فائیٹ 61
فاتح 56
فاتح بلحاظ ناک آوٹ 37
شکست 5
ویب سائٹ muhammadali.com
Muhammad Ali NYWTS.jpg

ابتدائی زندگیEdit

وہ امریکی ریاست کنٹکی کے شہر لوئسویل میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کیسیئس مارسیلس کلے سینئر کے نام پر کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر کہلائے۔

کیسیئس کلے نے 12 سال کی عمر سے ہی ایک مقامی جمنازیم میں باکسنگ کرنی شروع کر دی۔

6 فٹ تین انچ (1.91 میٹر) قد کے حامل محمد علی مکے بازوں کے عام انداز (ہاتھ چہرے پر رکھ کر اس کا دفاع کرنا) کے برخلاف ایک منفرد انداز کے حامل تھے۔ انہوں نے 29 اکتوبر 1960ء کو آبائی قصبے لوئسویل میں پہلا مقابلہ جیتا۔ 1960ء سے 1963ء تک نوجوان کیسیئس نے 19 مقابلے جیتے اور ایک میں بھی شکست نہیں کھائی۔ ان مقابلوں میں سے 15 میں اس نے مدمقابل کو ناک آؤٹ کیا۔

شہرت کا آغازEdit

باکسنگ میں ان کا کیریئر ایک شوقیہ کھلاڑی کی حیثیت سے کامیاب رہا لیکن ان کو عظمت اس وقت حاصل ہوئی جب 1960ء میں روم اولمپِک میں انہوں نے سونے کا تمغا جیتا۔

لیکن تمغا جیتنے کے بعد جب محمد علی اپنے شہر واپس آئے تو وہ نسلی امتیاز کا شکار ہوگئے۔ ایک ریستوران میں انہیں اس لیے نوکری نہ مل سکی کیونکہ وہ سیاہ فام تھے اور اس واقعے کے نتیجے میں انہوں نے اپنا سونے کا تمغا دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔

لیکن ان واقعات کے باوجود ان کی کامیابیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ اکھاڑے میں کیسیئس کلے کا کردار غیر معمولی رہا۔ وہ اپنے مخالفین کو کھلا چیلینج دیتے رہے، باکسنگ کے مقابلے جیتتے رہے، اور عوام نے ان کو عقیدت کی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔

عالمی اعزازEdit

فروری 1964ء میں کیسیئس کلے نے باکسنگ میں اس وقت کے عالمی چیمپیئن سونی لسٹن کو کھلا چیلنج کیا اور انہیں ایک مقابلے کے چھٹے راؤنڈ میں شکست دی۔ اس کے بعد انہوں نے مسلسل سات مقابلوں میں اس وقت کے مایہ ناز مکے بازوں کو زیر کیا۔

اس فتح کے بعد انہوں نے نیشن آف اسلام میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنا نام محمد علی رکھ لیا۔ محمد علی کا کہنا تھا کہ کیسیئس کلے ایک غلامانہ نام تھا۔

جنگ ویت نام اور سزاEdit

جنگ ویت نام کے دوران محمد علی نے امریکی فوج میں شامل ہونے کے عہد نامے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں انہیں ان کے اعزاز سے محروم کر دیا گیا اور 3 سال کی سزا سنائی گئی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے عوامی احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سزا سے مستثنٰی قرار دیا۔

بعد ازاں جب محمد علی پھر سے میدان میں اترے تو ان کی باکسنگ میں وہ کشش نہیں تھی اور جو فریزیئر نے انہیں شکست دیدی لیکن دو سال کے بعد انہوں نے بدلہ چکا لیا۔

جو فریزیئر اور محمد علی کا یہ مقابلہ مکے بازی کی تاریخ کے عظیم ترین مقابلوں میں شمار ہوتا ہے اور "Fight of the Century" یعنی صدی کی بہترین لڑائی کے نام سے مشہور ہے۔

عالمی اعزاز کا دوبارہ حصولEdit

پھر اکتوبر 1974ء میں انہوں نے جارج فورمین کو شکست دیکر ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا وقار اور شہرت حاصل کرلی۔ اس وقت محمد علی کی عمر صرف 32 سال تھی اور وہ اس اعزاز کو پھر سے جیتنے والے دوسرے شخص تھے۔

1975ء میں محمد علی نے نیشن آف اسلام چھوڑ کر باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔

اسی سال منیلا، فلپائن میں پھر سے محمد علی کا مقابلہ جو فریزیئر سے ہوا جن کا کہنا تھا کہ انہیں محمد علی سے نفرت ہونے لگی ہے۔ 14 راؤنڈ کے بعد محمد علی نے فتح حاصل کی اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

لیکن فروری 1978ء میں علی کو ایک زبردست دھچکا لگا جب وہ لیون اسپِنکس نامی اس شخص سے ہار گئے جو ان سے 12 سال کم عمر تھا۔ 8 ماہ بعد ایک مقابلے میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا اور کروڑوں لوگوں نے اس مقابلے کو دیکھا۔ اس بار محمد علی نے اسپِنکس کو شکست دی اور تاریخ میں پہلی بار کسی کھلاڑی نے تیسری بار عالمی اعزاز جیتا۔ اس وقت ان کی عمر 36 سال تھی۔ جب انہوں نے 1996ء کے اٹلانٹا اولمپکس کی مشعل اٹھائی تو دنیا بھر کی توجہ ان کی صحت پر تھی۔ اس وقت انہیں ایک سونے کا تمغا بھی دیا گیا جو اس تمغے کے بدلے میں تھا جو انہوں نے دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔

آج بھی دنیا محمد علی کو ایک عظیم شخص کی حیثیت سے جانتی ہے۔ برطانیہ میں بی بی سی ٹیلیویژن دیکھنے والوں نے انہیں اس صدی کا سب سے عظیم کھلاڑی قرار دیا اور یہی اعزاز انہیں کے امریکی رسالے Sports Illustrated نے بھی دیا۔

وفاتEdit

40 سال کی عمر میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 1980ء ان کی صحت کے بارے میں خدشات نے جنم لینا شروع کر دیا اور ڈاکٹروں نے انہیں "پارکنسنس سنڈروم" (رعشہ) کا شکار پایا۔ محمد علی کو سانس کی تکلیف کے باعث 2 جون، 2016ء کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ ابتدائی طور پر ان کی حالت کو تسلی بخش کرار دیا گیا۔تاہم اگلے دن علی کی حالت بگڑ گئی۔ اس کے بعد ان کی حالت بہتر نہیں ہوئی اور 3 جون کو 74 سال کی عمر میں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

محبت رسول اور دنیا میں ایک منفرد اعزازEdit

ہالی وڈ، کیلیفورنیا میں ایک عمارت کوڈیک تھیئٹر اینٹرٹینمنٹ کامپلکس جس کی شہرت ہالی وڈ واک آف فیم (Hollywood Walk of Fame) کے طور پر ہے۔ یہاں پر 2,500 مشاہیر کے نام ستاروں کی شکل کے اعزاز کے ساتھ زمین پر درج ہیں۔ جگہ کے منتظمین محمد علی ہی کی زندگی میں ان کا نام زمین پر نقش کرنا چاہتے تھے۔ تاہم محمد علی نے واضح الفاظ میں یہ بیان دیاکہ میں نہیں چاہوں گا کہ میرے نام کے اوپر سے وہ لوگ چلیں جو میری عزت نہیں کرتے۔ اس نے مزید کہا: میں میرے پیغمبر کا نام رکھتا ہوں اور میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ کسی کو اس پر قدم رکھ کر چلنے کی اجازت دوں۔

اس بیان کے پیش نظر ہالی وڈ واک آف فیم کی انتظامی کمیٹی نے 2002ء میں محمد علی کا نام دیوار پر نقش کیا۔ یہ اس عمارت کا واحد نام ہے جو دیوار پر ہے نہ کہ زمین پر۔

حوالہ جاتEdit

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B9%D9%84%DB%8C_(%D9%85%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2)